People Also Liked

From the same member

Qalam e Iqbal

Posted by G.A. Najam
Poet: Dr. Allama Muhammad Iqbal (Written in Masjid-e-Qartaba) Singer: Tina Sani (Tinsa sang this poem 1st time on request of Dr. annemarie schimmel.. later it was recorded for PTV . سلسلہ روز و شب ، نقش گر حادثات سلسلہ روز و شب ، اصل حيات و ممات سلسلہ روز و شب ، تار حرير دو رنگ جس سے بناتي ہے ذات اپني قبائے صفات سلسلہ روز و شب ، ساز ازل کي فغاں جس سے دکھاتي ہے ذات زيروبم ممکنات تجھ کو پرکھتا ہے يہ ، مجھ کو پرکھتا ہے يہ سلسلہ روز و شب ، صيرفي کائنات تو ہو اگر کم عيار ، ميں ہوں اگر کم عيار موت ہے تيري برات ، موت ہے ميري برات تيرے شب وروز کي اور حقيقت ہے کيا ايک زمانے کي رو جس ميں نہ دن ہے نہ رات آني و فاني تمام معجزہ ہائے ہنر کار جہاں بے ثبات ، کار جہاں بے ثبات! اول و آخر فنا ، باطن و ظاہر فنا نقش کہن ہو کہ نو ، منزل آخر فنا ہے مگر اس نقش ميں رنگ ثبات دوام جس کو کيا ہو کسي مرد خدا نے تمام مرد خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ عشق ہے اصل حيات ، موت ہے اس پر حرام تند و سبک سير ہے گرچہ زمانے کي رو عشق خود اک سيل ہے ، سيل کو ليتاہے تھام عشق کي تقويم ميں عصررواں کے سوا اور زمانے بھي ہيں جن کا نہيں کوئي نام عشق دم جبرئيل ، عشق دل مصطفي عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام عشق کي مستي سے ہے پيکر گل تابناک عشق ہے صہبائے خام ، عشق ہے کاس الکرام عشق فقيہ حرم ، عشق امير جنود عشق ہے ابن السبيل ، اس کے ہزاروں مقام عشق کے مضراب سے نغمہ تار حيات عشق سے نور حيات ، عشق سے نار حيات اے حرم قرطبہ! عشق سے تيرا وجود عشق سراپا دوام ، جس ميں نہيں رفت و بود رنگ ہو يا خشت و سنگ ، چنگ ہو يا حرف و صوت معجزہ فن کي ہے خون جگر سے نمود
Posted September 21, 2010 - #Iqbal 
click to rate

Embed  |  318 views
0 comments